بنگلورو،26؍جنوری(ایس او نیوز) بشمول منگلورواور بلگاوی ریاست کے دیگر مقامات پر پچھلے 5سالوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے موقعوں پر اقلیتوں کے خلاف داخل فوجداری معاملے واپس لینے ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(ڈی جی پی) نے آج ایک سرکیولر جاری کیا ہے ۔ سدارامیا کی قیادت والی حکومت پر ریاستی کانگریس لیڈران بار بار دباؤ ڈال رہے تھے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے دوران پولیس جانبداری سے کام لیتے ہوئے اکثر معصوم اقلیتی نوجوانوں کے خلاف فوجداری معاملے درج کرتی ہے جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے ۔ ایسے فوجداری معاملے واپس لینے حکومت محکمہ پولیس کو ہدایت دے۔ اقلیتی کانگریس لیڈروں کے اس مطالبہ کو سنجیدہ لیتے ہوئے سدارامیا حکومت نے پچھلے 5سالوں میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران اقلیتوں کے خلاف درج فوجداری معاملے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آج باقاعدہ سرکیولر بھی جاری ہوچکا ہے ۔اس سلسلہ میں کل 25 جنوری کو ریاست کے ڈی جی پی کے دفتر سے مختلف اضلاع کے سوپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور پولیس کمشنروں کو سرکیولر جاری کیا گیا ہے ۔ جس میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں اقلیتوں کے خلاف داخل مقدمے واپس لے لینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ پچھلے دنوں 16,15,14,2013 اور 2017 کے دوران فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں اقلیتوں کے خلاف جتنے بھی معاملے درج کئے گئے ہیں حکومت کے اس سرکیولر کی رو سے واپس لے لینا چاہئے ۔ چاہے وہ کسی بھی مرحلہ میں کیوں نہ ہو۔ اس سے قبل بی ایس ایڈی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے کابینہ میں ایک فیصلہ کرتے ہوئے آر ایس ایس ،بی جے پی اور بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف درج فوجداری معاملے فوری واپس لینے سرکیولر جاری کیا تھا۔اقلیتوں کے خلاف درج فوجداری مقدمے واپس لینے کیلئے حکومت نے فیصلہ کرکے سرکیولر بھی جاری کردیا ہے۔ایسے مقدمات میں جو بھی اقلیتی نوجوان پھنسے ہیں ان میں اکثریت معصوم اوربے قصوروں کی ہوتی ہے وہ قانون کے داؤ پیچ نہیں جانتے ۔اس لئے مذکورہ سرکیولر کے تحت ان مقدمات میں پھنسے اقلیتوں کو آزاد کرنے مقامی سطح پر رہنمائی اشد ضروری ہے ۔حکومت نے سرکیولر توجاری کردیا ہے لیکن مقامی سطح پر پولیس معاملہ واپس لینے میں تعاون نہیں کرے گی اور ٹال مٹول کرے گی۔ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں انتخابی ضابطہ اخلاق جاری ہوجائے گا اس کا بہانہ بناکر مقامی پولیس ایسے معاملے واپس لینے میں ٹال مٹول کرسکتی ہے اس لئے مقامی سطح پر جانکاری رکھنے والے اور ماہرین قانون اقلیتی نمائندوں کو نہ صرف رہنمائی کریں بلکہ ایسے معاملے واپس لینے کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ اقدامات بھی کریں ۔اس کے لئے مقامی سطح پر باشعور افراد کو ایک گروپ کی شکل میں متعلقہ پولیس اور متعلقہ افسروں سے رابطہ کرنا بہتر ہے ۔